منگلورو:12/اپریل(ایس اؤنیوز)جسٹس فار قریشی سینکت مسلم وکوٹا دکشن کنڑا ضلع کا ایک وفد ریاستی وزیرا علیٰ سدرامیا سے ملاقات کرتے ہوئے احمد قریشی اور انصاف دلانے کے لئے کئے گئے احتجاج پر پولس لاٹھی چار ج کے متعلق تفصیلات سونپتے ہوئے وزیراعلیٰ سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ، ملاقات کے دوران وزیرا علیٰ نے کارروائی کرنے کا تیقن دیا ہے۔
وزیرا اعلیٰ کو سونپے گئے میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ احمد قریشی کوغیرقانونی طورپر لگاتار 6دن قید میں رکھ کر جسمانی ظلم ڈھایا گیا ، جس کے نتیجے میں اس کے دونوں گردے ناکارہ ہوگئے، ہاتھ اور آنکھ پر شدید زخمی ہونے کی خبریں اخبارات میں تفصیل سے شائع ہوئی ہیں۔ ظلم کا اندازا اسی بات سے لگایا جاسکتاہے کہ خود وینلاک اسپتال کی ڈائرکٹر ڈاکٹر راجیشوری دیوی نے بتایا کہ آئی سی یو میں زیرعلاج احمد قریشی کی حالت بہت نازک ہے، اسی بنا پر منگلورو کی عدالت نے قریشی کو نجی اسپتال میں علاج کروانے کا حکم بھی دیا ہے۔
میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ کوناجے تھانہ کی پولس نےقریشی کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی بات ظاہرکرنے کی صورت میں انکاؤنٹر کرنے اور کارتیک راج قتل کیس میں فکس کرنے کی دھمکی دے کر 27اپریل کو عدالت میں پیش کیا تھا۔ ذہنی و جسمانی اذیتوں کی تاب نہ لاکر عدالت میں منصف کے سامنے قریشی نے جھوٹا بیان دیا ، لیکن دوسرے دن اس کے وکیل نے جب اس کو حوصلہ دیاتو قریشی نے حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ سچائی ظاہر ہونے پر مسلم تنظیموں نے انصاف کی مانگ لے کر پولس کمشنر دفتر کے گھیراؤ کی کوشش کی تو ان پر بے رحیمانہ طورپر لاٹھی چارج کرکے گرفتارکرکے جھوٹے مقدمات دائر کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولس کمشنر نے سی سی بی پولس کی غلطیوں پر پردہ ڈال کر ان کی حمایت کرتےہوئے میڈیا کو غلط جانکاری دینےکی کوشش کی ہے۔ اسی طرح کی اورکوششوں کو انجام دیتے ہوئے معاملہ کا رخ بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہی حقائق کی بنیا دپر دکشن کنڑا ضلع کے تمام مسلم لیڈران پر مشتمل یونائٹیڈ مسلم فرنٹ تشکیل دےکر ریاستی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی گئی ۔
ملاقات کے دوران جو مانگیں رکھی گئی ہیں وہ اس طرح ہیں۔ معصوم احمد قریشی پر ظلم ڈھانے والے سی سی بی انسپکٹر سنیل نائک، سب انسپکٹر شیام سندر ، سی سی بی عملہ اشیت ڈیسوزا، یوگیش، رام ، چنپا ، راجیندر، منی ین اور منی کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف کریمنل مقدمہ درج کیا جائے اورمعاملے کی عدالتی جانچ کی جائے یا سی اؤڈی کے ذریعے جانچ کرائی جائے۔
احمد قریشی کا مکمل طبی خرچ حکومت ادا کرے ، اور کڈنی ناکارہ ہونے سے اس کے لئے معاوضہ کا اعلان کیا جائے۔
انصاف کی مانگ لے کر احتجاج کئے ہوئے احتجاجیوں پر دائر کئے گئے مقدمات کو واپس لیاجائے ۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف محکمہ پولس کو بھڑکانے کے لئے شرپسندوں کے حملے کا شکار ہوئے اروا پولس تھانہ ایس آئی آئیتپا کے معاملے کی بھی سی اؤڈی کے ذریعے جانچ کرائی جائے اور اس کے پیچھےکن لوگوں کا ہاتھ ہے اس کو ظاہر کیاجائے۔
اس موقع پر وفد میں فرنٹ کے چیرمن ، سابق میئر اشرف ، چارمراج نگر رکن اسمبلی ضمیر احمد خان، پلاننگ کمیشن کے نائب صدر سی ایم ابراہیم، ودھان پریشد کے رکن رضوان اسد وغیرہ موجود تھے۔
